عرض حال
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - گزارش احوال، اظہار مدعا، اظہار واقعہ۔ "خامشی" عرضِ حال کا ماتم قہقہوں میں ملال کا عالم ( ١٩٥٧ء، نبض دوراں، ٨٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'عرض' کے آخر پر کسرۂ اضافت ملنے کے بعد عربی اسم 'حال' لگانے سے مرکب 'عرضِ حال' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیاتِ ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گزارش احوال، اظہار مدعا، اظہار واقعہ۔ "خامشی" عرضِ حال کا ماتم قہقہوں میں ملال کا عالم ( ١٩٥٧ء، نبض دوراں، ٨٢ )
جنس: مذکر